پانچ حروف

خواہش کی ساخت کو کبھی غور سے دیکھا ہے تم نے ؟ ایک محدود سے لفظ کی فنا کر دینے والی لامحدودیت محسوس کی ہے کبھی پانچ حروف کی انگنت پرچھائیوں کے پیچھے بھاگتے کبھی خود کو زخمی کیا ہے تم نے اتنا زخمی کہ آنسوؤں کے بجاۓ خون بہنے لگے خواہش کے سرابوں میں ڈوب کر تم نے کبھی خود کو تپتی ہوئی ریت سے جلایا ہے کیا ارمانوں کی دڑار زدہ عینک لگا کر دنیا کی بد صورتی کو محسوس کیا ہے کبھی کیا تم نے لکیروں کی کوٹھڑی بنا کر خود کو قید کیا ہے اس میں خواہش کی ساخت کو کبھی غور سے دیکھا ہے تم نے ؟ کھوکھلی اور ہوا سے بھری ہوئی نجانے کیوں اپنی اپنی سی لگتی ہے کیا تم نے خالی پن کو خالی پن سے بھرنے کی کوشش کی ہے کبھی ؟